Physical Address
304 North Cardinal St.
Dorchester Center, MA 02124
Physical Address
304 North Cardinal St.
Dorchester Center, MA 02124

حکومت نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد موٹر سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے پٹرول سبسڈی دینے کا اعلان کر دیا۔
حکومت پاکستان نے بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتھل پتھل کے بعد ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ نگران اور وفاقی حکام کے مطابق عالمی سطح پر توانائی کے بحران اور سپلائی چین کی صورتحال کے باعث مقامی سطح پر قیمتوں پر نظرثانی ناگزیر ہو چکی تھی۔
قیمتوں میں اس تازہ ترین اضافے کے ساتھ ہی حکومت نے کم آمدنی والے طبقے کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے ایک خصوصی ریلیف سکیم متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس سکیم کے تحت موٹر سائیکل مالکان، رکشہ ڈرائیوروں اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو پٹرول پر رعایت دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
پاکستان میں ہر ۱۵ دن بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے جس میں ایندھن کی عالمی قیمتیں، امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔
ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا مستقیم اثر زراعت اور مال برداری کے شعبے پر پڑتا ہے جس سے ترسیلی اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور بالواسطہ طور پر اشیائے خورونوش بھی مہنگی ہو جاتی ہیں۔ دوسری جانب پٹرول کی قیمت میں اضافے سے عام سواری اور نقل و حمل کے روزمرہ اخراجات پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔
عوامی سطح پر شدید تنقید اور معاشی دباؤ کے پیش نظر حکومت نے ایندھن پر ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس سکیم کا بنیادی مقصد ان افراد کو مالی مدد فراہم کرنا ہے جو روزمرہ آمدورفت کے لیے موٹر سائیکلوں یا کم طاقت والی گاڑیوں پر انحصار کرتے ہیں۔
حکومت کے مطابق اس سبسڈی سکیم کو شفاف بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور نادرا کے ڈیٹا بیس کا استعمال کیا جائے گا۔ صارفین کو ایندھن حاصل کرتے وقت اپنے قومی شناختی کارڈ اور گاڑی کے کاغذی ثبوت پیش کرنے ہوں گے جس کے بعد انہیں رعایت دی جائے گی۔
تاہم اس سکیم کی عملی تطبیق کے حوالے سے کچھ چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں۔ پٹرولیم ڈیلرز اور متعلقہ تنظیموں نے تکنیکی مسائل اور پٹرول پمپوں پر بھیڑ سے بچنے کے لیے حکومت سے مذاکرات اور طریقہ کار میں مزید بہتری کا مطالبہ کیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کسی بھی ملک میں مہنگائی کا تعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ جب بھی ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر دیگر تمام اشیاء پر یکدم نظر آنے لگتا ہے۔
| شعبہ | مستقبل کا ممکنہ اثر |
|---|---|
| حمل و نقل (ٹرانسپورٹ) | کرایوں میں اضافہ اور سفری اخراجات کا بڑھنا |
| زراعت | ٹیوب ویل اور ٹریکٹر کے اخراجات میں اضافے سے فصل کی لاگت بڑھنا |
| روزمرہ اشیاء | بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر دباؤ |
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ریلیف سکیم کو حتمی شکل دے کر اس کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا۔ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مستحکم رہتی ہیں تو ملک میں بھی نرخوں میں ثبات دیکھنے کو مل سکتا ہے، بصورت دیگر آنے والے جائزوں میں مزید تبدیلیوں کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان میں قیمتوں کا تعین اوگرا کی سفارشات پر حکومت کرتی ہے، جس میں عالمی مارکیٹ کی قیمتیں، خام تیل کا تبادلہ اور روپے کی قدر شامل ہوتی ہیں۔
جی نہیں، یہ سکیم صرف موٹر سائیکل، رکشہ اور ۸۰۰ سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کے لیے مخصوص کی گئی ہے۔
حکومت ایک مخصوص ایس ایم ایس یا ویب پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن کا عمل شروع کرے گی جس کی تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔
بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پاکستان جیسے درآمدات پر منحصر ممالک کے لیے ہمیشہ ایک بڑا معاشی چیلنج رہا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ جہاں عوام کی جیب پر اضافی بوجھ ڈالے گا، وہیں حکومت کی جانب سے تجویز کردہ ریلیف سکیم اگر شفافیت کے ساتھ نافذ کی جائے تو اس سے کم آمدنی والے طبقے کو کسی حد تک راحت مل سکتی ہے۔
حوالہ: یہ رپورٹ عوامی طور پر دستیاب معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ اصل رپورٹنگ: Dawn.
تصویر: Efrem Efre / Pexels